2 June 2012, 16:52

کالا جادو، سیاسی کشمکش کا توڑ

کالا جادو، سیاسی کشمکش کا توڑ

    کچھ روز پہلے "فرانس پریس" ایجنسی نے خبر دی تھی کہ ملک مالدیپ میں پولیس نے

    کچھ روز پہلے "فرانس پریس" ایجنسی نے خبر دی تھی کہ ملک مالدیپ میں پولیس نے معزول صدر محمد نشید کے حامیوں کے ایک جلوس کو منتشر کر دیا۔  جلوس کو منتشر کیے جانے اور بعد میں حزب مخالف  کے دفاتر میں چھاپوں کی وجہ یہ بنی کہ جلوس میں سے ایک شخص نے پولیس والوں پر "جادو کی ہوئی" مرغی پھینک دی تھی۔

     جیسا کہ پولیس نے کہا ہے کہ حزب مخالف کے دفاتر میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے جانے کی خاطر "مجرمانہ سرگرمیاں " اور "کالا جادو" کیے جاتے ہیں۔ بلاشبہ بہت سے مبصرین نے یہ بات محظوظ ہوتے ہوئے کی کیونکہ یہ بات سبھی کے لیے موجب دلچسپی تھی۔ لیکن اس سب کو مالدیپ کی اندرونی سیاست کی گہرائی میں جا کر دیکھنے کی ضرورت ہے جو معاشرے میں پھیلی بے چینی سے جدا نہیں کی جا سکتی۔ روس کے انسٹیٹیوٹ برائے تزویری تحقیق کے ایک ماہر بورس وولہونسکی خیال کرتے ہیں:" مالدیپ بالکل بھی وہ واحد ملک نہیں ہے جہاں کی سو فیصد آبادی سنی مسلمان ہے اور اگر کوئی بھی غیر ملکی مالدیپ کی شہریت لینے کا خواہاں ہو تو اسے اسلام قبول کرنا ہوگا۔ اسلام کو بارہویں صدی میں ہی سرکاری مذہب کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ اسلام سے پہلے اہل مالدیپ کا مذہب کیا تھا اس کے بارے مین وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ قرون وسطٰی کے اسلامی ذرائع کا کہنا یہ ہے کہ وہ بھوت پریت کی پوجا کیا کرتے تھے۔ بہت سے محقق یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ پہلے بدھ مت کے پیروکار تھے۔ تاہم یہ بدھ مت کی اصل شکل نہیں تھی بلکہ ایسا ملغوبہ مذہب تھا جس میں بدھ مت کے ضوابط کے ساتھ ساتھ روحوں کی پوجا اور جادو پرستی شامل تھی۔ اسلام کی بالا دستی کے سینکڑوں سال کے باوجود اس جادو پرستی کا قلع قمع نہیں ہو پایا ہے۔ آج مالدیپ کے بہت سے باسی عام زندگی میں جادو کا استعمال کرتے ہیں چاہے وہ عام جادو ہو جس کو روحوں کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے یا کالا جادو جس کے پس پشت بد روحیں خیال کی جاتی ہیں اور جس سے مخالف کو جسمانی ضرر پہنچایا جا سکتا ہے۔"

      جادو کے خلاف واحد قوت اسلام پسند ہیں، جو جادو سے کلّی احتراز کی ہدایت کرتے ہیں اور جادو ٹونے کرنے والوں کو شدید ترین سزا دیے جانے کے حق میں ہیں یعنی جس طرح سعودی عرب میں کیا جاتا ہے ،گردن مار دی جائے۔ اس سے کئی باتیں اخذ کی جا سکتی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ منتر پڑھی مرغی (منتر پڑھا بھی گیا تھا یا نہیں ،پتہ نہیں) کو پولیس پر پھینک کر حکومت نے حزب اختلاف کے خلاف کارروائی کیے جانے کے طور پر برتا ہے۔ کیونکہ ایسے عمل کا الزام لگا کر حزب اختلاف کے عقیدے پر بھی وار ہو سکتا ہے۔

     دوسری بات زیادہ اہم ہے کہ جس معاشرے کے لوگوں کے شعور اور لا شعور میں جادو کا ڈیرا ہو وہاں بنیاد پرست اسلام پسندوں کا، جو لوگوں کی گردن مار دینے کی بات کرتے ہوں،بر سر اقتدار آنے کا کوئی امکان نہیں۔

  •  
    شیئر کریں
آپ نے کبھی رشوت دی پے؟
 
ای میل